Smart Calculators

Smart

Calculators

سیلز ٹیکس کیلکولیٹر

سیلز ٹیکس فوری طور پر حساب کریں۔ 30 سے زیادہ ممالک کے لیے خودکار شرح کے ساتھ کسی بھی قیمت میں ٹیکس شامل یا خارج کریں۔

سیلز ٹیکس کیلکولیٹر۔ کسی بھی قیمت میں فوری طور پر ٹیکس شامل یا خارج کریں۔
سیلز ٹیکس کیلکولیٹر خالص قیمت پر ٹیکس شامل کرتا ہے یا ٹیکس سمیت قیمت سے ٹیکس الگ نکالتا ہے۔ یہ خالص قیمت، ٹیکس کی رقم اور کل 30 سے زائد ممالک کی پہلے سے طے شدہ شرحوں کے ساتھ دکھاتا ہے۔

سیلز ٹیکس کیلکولیٹر کیا ہے؟

سیلز ٹیکس کیلکولیٹر ایک آن لائن ٹول ہے جو کسی بھی قیمت میں سیلز ٹیکس شامل کرنے یا ٹیکس سمیت قیمت سے ٹیکس نکالنے کا حساب فوری طور پر لگا دیتا ہے۔ یہ تاجروں، کاروباری افراد، اکاؤنٹنٹس اور عام صارفین کے لیے بلنگ، انوائسنگ اور بجٹ بنانے میں انتہائی مفید ٹول ہے۔
پاکستان میں وفاقی سیلز ٹیکس کی معیاری شرح 18 فیصد ہے جو زیادہ تر اشیاء پر لاگو ہوتی ہے۔ یہ شرح فنانس ایکٹ 2023 کے تحت 17% سے بڑھا کر 18% کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ عیش و عشرت اور نقصان دہ اشیاء (جیسے مشروبات، سگریٹ، لگژری گاڑیاں) پر 25% سیلز ٹیکس عائد ہے۔ وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت وفاقی سطح پر اشیاء پر سیلز ٹیکس وصول کرتا ہے جبکہ خدمات پر سیلز ٹیکس صوبائی ریونیو اتھارٹیز وصول کرتی ہیں۔
پاکستان کا سیلز ٹیکس نظام کثیر مرحلہ جاتی ہے جو سپلائی چین کے ہر مرحلے پر لاگو ہوتا ہے، لیکن ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے پچھلے مرحلے میں ادا شدہ ٹیکس کی واپسی ہو جاتی ہے۔ اس طرح حتمی بوجھ صارف پر ہی پڑتا ہے۔ ہمارا سیلز ٹیکس کیلکولیٹر 30 سے زیادہ ممالک کو سپورٹ کرتا ہے اور آپ کے ملک کے مطابق خودکار طریقے سے صحیح ٹیکس شرح دکھاتا ہے۔

سیلز ٹیکس کا حساب کیسے لگائیں؟

سیلز ٹیکس کا حساب دو طریقوں سے لگایا جاتا ہے — قیمت میں ٹیکس شامل کرنا اور کل قیمت سے ٹیکس نکالنا (ریورس کیلکولیشن)۔ دونوں کے لیے آپ کو صرف دو چیزیں درکار ہیں: رقم اور سیلز ٹیکس کی شرح۔
قیمت میں سیلز ٹیکس شامل کرنا:
1. مصنوعات یا خدمت کی اصل قیمت (بغیر ٹیکس) معلوم کریں۔ مثال کے طور پر کوئی الیکٹرانک آلہ ₨50,000 کا ہے۔
2. لاگو سیلز ٹیکس کی شرح منتخب کریں۔ پاکستان میں معیاری شرح 18% ہے۔
3. ٹیکس کی رقم نکالیں: ₨50,000 × 18 ÷ 100 = ₨9,000۔
4. کل قیمت = اصل قیمت + ٹیکس = ₨50,000 + ₨9,000 = ₨59,000۔
کل قیمت سے ٹیکس نکالنا (ریورس کیلکولیشن):
1. ٹیکس سمیت کل قیمت لیں۔ فرض کریں بل ₨59,000 ہے اور ٹیکس کی شرح 18% ہے۔
2. اصل قیمت = کل قیمت ÷ (1 + ٹیکس شرح/100) = ₨59,000 ÷ 1.18 = ₨50,000۔
3. ٹیکس کی رقم = کل قیمت - اصل قیمت = ₨59,000 - ₨50,000 = ₨9,000۔
سب سے عام غلطی: بہت سے لوگ ٹیکس سمیت قیمت سے سیدھا 18% نکال لیتے ہیں۔ مثلاً ₨59,000 کا 18% = ₨10,620 — یہ غلط ہے۔ صحیح ٹیکس کی رقم ₨9,000 ہے کیونکہ 18% اصل قیمت (₨50,000) پر لگتا ہے، کل قیمت پر نہیں۔ اوپر دیے گئے کیلکولیٹر میں رقم درج کریں، ٹیکس شرح منتخب کریں، اور فوری طور پر صحیح حساب حاصل کریں۔

سیلز ٹیکس کا فارمولا

T=P×rT = P \times r
  • TT = سیلز ٹیکس کی رقم (روپوں میں)
  • PP = اصل قیمت (ٹیکس کے بغیر، نیٹ پرائس)
  • rr = سیلز ٹیکس کی شرح اعشاریے میں (جیسے 18% = 0.18)
ٹیکس سمیت کل قیمت نکالنے کا فارمولا:
Ptotal=P×(1+r)P_{total} = P \times (1 + r)
مثال: ₨25,000 کی مصنوعات پر 18% سیلز ٹیکس = ₨25,000 × 1.18 = ₨29,500 (کل قیمت)۔
ریورس کیلکولیشن — کل قیمت سے اصل قیمت نکالنا:
P=Ptotal1+rP = \frac{P_{total}}{1 + r}
مثال: ₨29,500 کے بل سے اصل قیمت = ₨29,500 ÷ 1.18 = ₨25,000۔ ٹیکس کی رقم = ₨29,500 - ₨25,000 = ₨4,500۔
کل قیمت سے براہ راست ٹیکس نکالنے کا مختصر فارمولا:
T=Ptotal×r1+rT = P_{total} \times \frac{r}{1 + r}
پاکستان کی 18% شرح کے لیے یہ تین نمبر یاد رکھیں: 1.18 (ضرب/تقسیم کے لیے)، 18 اور 118۔ کل قیمت × 18 ÷ 118 = ٹیکس کی رقم براہ راست۔ مثلاً ₨1,18,000 × 18 ÷ 118 = ₨18,000 ٹیکس۔

سیلز ٹیکس کے عملی حسابات

دکاندار: ₨80,000 کے موبائل فون کی انوائس بنانا

ایک الیکٹرانکس کی دکان کا مالک ₨80,000 (بغیر ٹیکس) کا موبائل فون فروخت کر رہا ہے۔ اس پر معیاری 18% وفاقی سیلز ٹیکس لاگو ہے۔
سیلز ٹیکس کی رقم = ₨80,000 × 0.18 = ₨14,400 کل قیمت = ₨80,000 + ₨14,400 = ₨94,400
انوائس پر یہ تفصیل ہوگی: - مصنوعات کی قیمت: ₨80,000 - سیلز ٹیکس (18%): ₨14,400 - کل واجب الادا: ₨94,400
اگر دکاندار ایف بی آر میں رجسٹرڈ ہے تو وہ اپنی خریداری پر ادا شدہ ٹیکس (ان پٹ ٹیکس) کو اپنی فروخت پر وصول شدہ ٹیکس (آؤٹ پٹ ٹیکس) سے ایڈجسٹ کر سکتا ہے۔ مثلاً اگر اس نے ہول سیلر سے ₨65,000 میں خریدا اور ₨11,700 ان پٹ ٹیکس ادا کیا، تو اس کی حقیقی ٹیکس ذمہ داری = ₨14,400 - ₨11,700 = ₨2,700 ہوگی۔

صارف: ₨35,400 کے بل سے ٹیکس نکالنا

ایک صارف ₨35,400 کی مصنوعات خریدتا ہے اور جاننا چاہتا ہے کہ اس میں کتنا سیلز ٹیکس شامل ہے۔ مصنوعات پر 18% سیلز ٹیکس لاگو ہے۔
اصل قیمت = ₨35,400 ÷ 1.18 = ₨30,000 سیلز ٹیکس کی رقم = ₨35,400 - ₨30,000 = ₨5,400
عام غلطی سے بچیں: اگر آپ ₨35,400 کا سیدھا 18% نکالیں تو ₨6,372 بنتا ہے — یہ ₨972 زیادہ ہے اور غلط ہے۔ صحیح طریقہ ہمیشہ 1.18 سے تقسیم کرنا ہے۔
یہ ریورس کیلکولیشن خاص طور پر تب کام آتی ہے جب آپ بل کی تصدیق کرنا چاہتے ہیں، اخراجات کا حساب رکھنا چاہتے ہیں، یا یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ نے اصل میں مصنوعات کی قیمت کتنی ادا کی اور ٹیکس کتنا تھا۔

کاروباری: ماہانہ سیلز ٹیکس گوشوارے کی تیاری

ایک فرنیچر بنانے والا کاروباری ماہانہ سیلز ٹیکس ریٹرن فائل کر رہا ہے۔ اس ماہ کی تفصیل:
فروخت (آؤٹ پٹ): - فرنیچر کی فروخت: ₨5,00,000 + ₨90,000 سیلز ٹیکس = ₨5,90,000 - کل آؤٹ پٹ ٹیکس: ₨90,000
خریداری (ان پٹ): - لکڑی اور خام مال: ₨2,50,000 + ₨45,000 سیلز ٹیکس = ₨2,95,000 - بجلی کا بل: ₨40,000 + ₨7,200 سیلز ٹیکس = ₨47,200 - کل ان پٹ ٹیکس: ₨45,000 + ₨7,200 = ₨52,200
واجب الادا ٹیکس = آؤٹ پٹ ٹیکس - ان پٹ ٹیکس = ₨90,000 - ₨52,200 = ₨37,800
یہ ₨37,800 ایف بی آر کو جمع کرانے ہوں گے۔ ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کے لیے تمام خریداری کی انوائسز ایف بی آر رجسٹرڈ سپلائرز سے ہونی چاہئیں اور ان میں NTN/STRN درج ہونا ضروری ہے۔

سیلز ٹیکس سے متعلق اہم مشورے

  • صحیح ٹیکس شرح کی پہچان کریں۔ وفاقی سیلز ٹیکس کی معیاری شرح 18% ہے لیکن کچھ اشیاء پر 25% (عیش و عشرت) اور کچھ پر کم شرح لاگو ہوتی ہے۔ غلط شرح لگانے سے ایف بی آر آڈٹ اور جرمانے کا خطرہ ہوتا ہے۔
  • ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا پورا فائدہ اٹھائیں۔ آپ نے خام مال، مشینری یا کاروباری اخراجات پر جو سیلز ٹیکس ادا کیا ہے، اسے اپنی فروخت پر وصول شدہ ٹیکس سے ایڈجسٹ کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے تمام خریداری کی انوائسز ایف بی آر رجسٹرڈ سپلائرز سے ہونی چاہئیں۔
  • ریورس کیلکولیشن کا صحیح طریقہ جانیں۔ ٹیکس سمیت قیمت سے سیدھا 18% نکالنا غلط ہے۔ صحیح طریقہ: کل قیمت ÷ 1.18 = اصل قیمت۔ یہ عام غلطی بلنگ کے مسائل اور ٹیکس گوشواروں میں غلطیوں کا سبب بنتی ہے۔
  • سیلز ٹیکس ریٹرن بروقت فائل کریں۔ ماہانہ سیلز ٹیکس ریٹرن ہر ماہ کی 18 تاریخ تک فائل کرنا ضروری ہے۔ تاخیر سے فائل کرنے پر ₨5,000 سے ₨10,000 تک جرمانہ اور سرچارج لگ سکتا ہے۔
  • ایف بی آر رجسٹریشن کی حد جانیں۔ سالانہ ₨1 کروڑ سے زیادہ ٹرن اوور والے کاروبار کے لیے سیلز ٹیکس رجسٹریشن لازمی ہے۔ امپورٹرز اور ایکسپورٹرز کے لیے ٹرن اوور کی حد سے قطع نظر رجسٹریشن ضروری ہے۔
  • مستثنیٰ اشیاء کی فہرست سے واقف رہیں۔ بنیادی خوراک (آٹا، دال، چاول، دودھ)، ادویات، زرعی مصنوعات، سرجیکل آلات اور تعلیمی مواد سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں۔ ان اشیاء پر ٹیکس وصول کرنا قانوناً غلط ہے۔

سیلز ٹیکس سے متعلق اکثر پوچھے گئے سوالات

پاکستان میں سیلز ٹیکس کی شرح 2026 میں کتنی ہے؟

پاکستان میں وفاقی سیلز ٹیکس کی معیاری شرح 18 فیصد ہے جو زیادہ تر اشیاء پر لاگو ہے۔ یہ شرح فنانس ایکٹ 2023 کے تحت 17% سے بڑھا کر 18% کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ کچھ لگژری اور نقصان دہ اشیاء (جیسے مشروبات، سگریٹ، پریمیم گاڑیاں) پر 25% سیلز ٹیکس عائد ہے۔ خدمات پر سیلز ٹیکس صوبائی حکومتیں وصول کرتی ہیں جن کی شرح 13% سے 16% کے درمیان ہوتی ہے۔

قیمت سے 18% سیلز ٹیکس کیسے نکالیں؟

ٹیکس سمیت کل قیمت سے 18% سیلز ٹیکس نکالنے کے لیے کل رقم کو 1.18 سے تقسیم کریں۔ مثال: ₨1,18,000 کے بل سے اصل قیمت = ₨1,18,000 ÷ 1.18 = ₨1,00,000۔ ٹیکس کی رقم = ₨1,18,000 - ₨1,00,000 = ₨18,000۔ سب سے عام غلطی یہ ہے کہ لوگ ₨1,18,000 کا سیدھا 18% نکالتے ہیں (₨21,240) — یہ ₨3,240 زیادہ ہے اور غلط ہے۔ صحیح طریقہ ہمیشہ 1.18 سے تقسیم کرنا ہے۔

وفاقی سیلز ٹیکس اور صوبائی سیلز ٹیکس میں کیا فرق ہے؟

18ویں آئینی ترمیم کے تحت اشیاء پر سیلز ٹیکس وفاقی حکومت (ایف بی آر) وصول کرتی ہے جبکہ خدمات پر سیلز ٹیکس صوبائی ریونیو اتھارٹیز وصول کرتی ہیں۔ پنجاب ریونیو اتھارٹی (PRA) 16% شرح پر، سندھ ریونیو بورڈ (SRB) 15% شرح پر، اور خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی (KPRA) 15% شرح پر خدمات پر ٹیکس لگاتی ہیں۔ ٹیلی کمیونیکیشن خدمات پر زیادہ شرح (19.5%) لاگو ہوتی ہے۔

سیلز ٹیکس رجسٹریشن کب لازمی ہے؟

ایف بی آر میں سیلز ٹیکس رجسٹریشن لازمی ہے اگر آپ کا سالانہ ٹرن اوور ₨1 کروڑ سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ امپورٹرز، ایکسپورٹرز، ہول سیلرز، ڈسٹریبیوٹرز اور بڑے ریٹیلرز کے لیے ٹرن اوور کی حد سے قطع نظر رجسٹریشن ضروری ہے۔ رجسٹریشن ایف بی آر کی آن لائن پورٹل (fbr.gov.pk) کے ذریعے الیکٹرانک طریقے سے کی جاتی ہے اور رجسٹریشن کے بعد ماہانہ سیلز ٹیکس ریٹرن فائل کرنا لازمی ہو جاتا ہے۔

ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کیا ہے اور کیسے کام کرتی ہے؟

ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ وہ نظام ہے جس میں آپ کاروباری خریداری (خام مال، مشینری، بجلی وغیرہ) پر ادا شدہ سیلز ٹیکس کو اپنی فروخت پر وصول شدہ سیلز ٹیکس سے منہا کر سکتے ہیں۔ مثال: آپ نے ₨3,00,000 کا مال خریدا (₨54,000 ٹیکس ادا کیا) اور ₨5,00,000 میں بیچا (₨90,000 ٹیکس وصول کیا)۔ آپ کی ذمہ داری = ₨90,000 - ₨54,000 = ₨36,000۔ ایڈجسٹمنٹ کے لیے سپلائر ایف بی آر رجسٹرڈ ہونا چاہیے اور انوائس میں NTN/STRN درج ہونا ضروری ہے۔

کون سی اشیاء سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں؟

سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی چھٹی شیڈول کے تحت بنیادی خوراک (آٹا، چاول، دال، دودھ، دہی، تازہ سبزیاں، تازہ پھل)، ادویات، سرجیکل آلات، زرعی مصنوعات و کھاد، کمپیوٹر سافٹ ویئر، تعلیمی مواد اور نئے اخبارات سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں۔ اس کے علاوہ برآمدات پر صفر فیصد شرح لاگو ہے تاکہ پاکستانی برآمد کنندگان بین الاقوامی مارکیٹ میں مسابقتی رہ سکیں۔

سیلز ٹیکس ریٹرن کب اور کیسے فائل کریں؟

سیلز ٹیکس ریٹرن ہر ماہ کی 18 تاریخ تک ایف بی آر کی آن لائن پورٹل (fbr.gov.pk) کے ذریعے الیکٹرانک طریقے سے فائل کرنا ضروری ہے۔ ریٹرن میں ماہانہ فروخت، آؤٹ پٹ ٹیکس، خریداری، ان پٹ ٹیکس اور واجب الادا ٹیکس کی تفصیل شامل ہوتی ہے۔ تاخیر سے فائل کرنے پر ₨5,000 سے ₨10,000 تک جرمانہ، ناقابل ایڈجسٹ سرچارج اور عدم ادائیگی پر اضافی جرمانہ عائد ہو سکتا ہے۔

سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس میں کیا فرق ہے؟

سیلز ٹیکس ایک بالواسطہ ٹیکس ہے جو اشیاء اور خدمات کی فروخت پر لاگو ہوتا ہے اور اس کا بوجھ حتمی صارف پر پڑتا ہے — پاکستان میں اس کی شرح 18% ہے۔ انکم ٹیکس ایک بلاواسطہ ٹیکس ہے جو آمدنی پر لاگو ہوتا ہے اور اس کی شرح آمدنی کے سلیب کے مطابق مختلف ہوتی ہے۔ سیلز ٹیکس ہر لین دین پر فوری وصول ہوتا ہے جبکہ انکم ٹیکس سالانہ گوشوارے میں ادا کیا جاتا ہے۔ دونوں ٹیکس ایف بی آر کے زیر انتظام ہیں مگر ان کے قوانین اور طریقہ کار الگ ہیں۔


سیلز ٹیکس کی اہم اصطلاحات

سیلز ٹیکس

اشیاء اور خدمات کی فروخت پر لاگو ہونے والا بالواسطہ ٹیکس جو سپلائی چین کے ہر مرحلے پر وصول ہوتا ہے۔ پاکستان میں وفاقی سطح پر اشیاء پر 18% شرح لاگو ہے جبکہ خدمات پر صوبائی شرحیں 13% سے 16% تک ہیں۔

ان پٹ ٹیکس

وہ سیلز ٹیکس جو کاروبار خام مال، مشینری یا خدمات کی خریداری پر ادا کرتا ہے۔ اسے آؤٹ پٹ ٹیکس سے ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے تاکہ صرف ویلیو ایڈیشن پر ٹیکس ادا ہو۔

آؤٹ پٹ ٹیکس

وہ سیلز ٹیکس جو کاروبار اپنی فروخت شدہ اشیاء یا خدمات پر صارفین سے وصول کرتا ہے اور ایف بی آر کو جمع کراتا ہے۔ واجب الادا ٹیکس = آؤٹ پٹ ٹیکس - ان پٹ ٹیکس۔

ایف بی آر (فیڈرل بورڈ آف ریونیو)

پاکستان کا وفاقی ادارہ جو سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی وصولی اور نگرانی کا ذمہ دار ہے۔ آن لائن پورٹل fbr.gov.pk کے ذریعے خدمات فراہم کرتا ہے۔

NTN (نیشنل ٹیکس نمبر)

ایف بی آر کی جانب سے ہر ٹیکس دہندہ کو دیا جانے والا منفرد شناختی نمبر جو سیلز ٹیکس رجسٹریشن، ریٹرن فائلنگ اور انوائسنگ کے لیے لازمی ہے۔

STRN (سیلز ٹیکس رجسٹریشن نمبر)

سیلز ٹیکس میں رجسٹریشن کے بعد ملنے والا منفرد نمبر جو ہر سیلز ٹیکس انوائس پر درج کرنا ضروری ہے۔ ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کے لیے سپلائر کا STRN ہونا لازمی ہے۔

ریورس کیلکولیشن

ٹیکس سمیت کل قیمت سے اصل قیمت اور ٹیکس کی رقم الگ نکالنے کا عمل۔ فارمولا: اصل قیمت = کل قیمت ÷ (1 + ٹیکس شرح)۔ پاکستان میں 18% شرح کے لیے: کل قیمت ÷ 1.18 = اصل قیمت۔