رہن کیلکولیٹر
اپنی ماہانہ رہن کی قسط، کل سود، اور مکمل ادائیگی کا شیڈول معلوم کریں۔ پراپرٹی ٹیکس، انشورنس، PMI اور اضافی ادائیگی کا تجزیہ شامل ہے۔
قرض کی تفصیلات
واپسی کے اختیارات
اصل زر کی ادائیگی شروع ہونے سے پہلے صرف سود والے سال۔ 0 = کوئی نہیں۔
ٹیکس اور انشورنس
ضرورت نہیں (ڈاؤن پیمنٹ ≥ 20%)
اضافی ادائیگیاں
قرض کی ضرورت نہیں — آپ کی ڈاؤن پیمنٹ پوری قیمت پوری کرتی ہے۔
Rs 1,438.92
Rs 278,013
Rs 518,013
جنوری 2056
360 اقساط
مساوی اصل زر: کل سود Rs 278,013 — مساوی قسط سے Rs 0 کم، مگر پہلی قسط Rs 0.00 زیادہ۔
اضافی ادائیگیوں سے آپ سود میں Rs 0.00 بچاتے ہیں اور اپنا قرض پہلے ادا کر سکتے ہیں۔
ادائیگی کا شیڈول
| سال | قسط | اصل رقم | سود | اضافی | بیلنس |
|---|---|---|---|---|---|
| 1 | Rs 17,267 | Rs 2,947 | Rs 14,320 | Rs 0 | Rs 237,053 |
| 2 | Rs 17,267 | Rs 3,129 | Rs 14,138 | Rs 0 | Rs 233,924 |
| 3 | Rs 17,267 | Rs 3,322 | Rs 13,945 | Rs 0 | Rs 230,602 |
| 4 | Rs 17,267 | Rs 3,527 | Rs 13,740 | Rs 0 | Rs 227,075 |
| 5 | Rs 17,267 | Rs 3,744 | Rs 13,523 | Rs 0 | Rs 223,331 |
| 6 | Rs 17,267 | Rs 3,975 | Rs 13,292 | Rs 0 | Rs 219,355 |
| 7 | Rs 17,267 | Rs 4,221 | Rs 13,047 | Rs 0 | Rs 215,135 |
| 8 | Rs 17,267 | Rs 4,481 | Rs 12,786 | Rs 0 | Rs 210,654 |
| 9 | Rs 17,267 | Rs 4,757 | Rs 12,510 | Rs 0 | Rs 205,897 |
| 10 | Rs 17,267 | Rs 5,051 | Rs 12,216 | Rs 0 | Rs 200,846 |
| 11 | Rs 17,267 | Rs 5,362 | Rs 11,905 | Rs 0 | Rs 195,484 |
| 12 | Rs 17,267 | Rs 5,693 | Rs 11,574 | Rs 0 | Rs 189,791 |
| 13 | Rs 17,267 | Rs 6,044 | Rs 11,223 | Rs 0 | Rs 183,747 |
| 14 | Rs 17,267 | Rs 6,417 | Rs 10,850 | Rs 0 | Rs 177,330 |
| 15 | Rs 17,267 | Rs 6,813 | Rs 10,455 | Rs 0 | Rs 170,518 |
| 16 | Rs 17,267 | Rs 7,233 | Rs 10,034 | Rs 0 | Rs 163,285 |
| 17 | Rs 17,267 | Rs 7,679 | Rs 9,588 | Rs 0 | Rs 155,606 |
| 18 | Rs 17,267 | Rs 8,152 | Rs 9,115 | Rs 0 | Rs 147,454 |
| 19 | Rs 17,267 | Rs 8,655 | Rs 8,612 | Rs 0 | Rs 138,798 |
| 20 | Rs 17,267 | Rs 9,189 | Rs 8,078 | Rs 0 | Rs 129,609 |
| 21 | Rs 17,267 | Rs 9,756 | Rs 7,511 | Rs 0 | Rs 119,853 |
| 22 | Rs 17,267 | Rs 10,358 | Rs 6,909 | Rs 0 | Rs 109,496 |
| 23 | Rs 17,267 | Rs 10,996 | Rs 6,271 | Rs 0 | Rs 98,499 |
| 24 | Rs 17,267 | Rs 11,675 | Rs 5,592 | Rs 0 | Rs 86,825 |
| 25 | Rs 17,267 | Rs 12,395 | Rs 4,872 | Rs 0 | Rs 74,430 |
| 26 | Rs 17,267 | Rs 13,159 | Rs 4,108 | Rs 0 | Rs 61,271 |
| 27 | Rs 17,267 | Rs 13,971 | Rs 3,296 | Rs 0 | Rs 47,300 |
| 28 | Rs 17,267 | Rs 14,833 | Rs 2,435 | Rs 0 | Rs 32,467 |
| 29 | Rs 17,267 | Rs 15,747 | Rs 1,520 | Rs 0 | Rs 16,720 |
| 30 | Rs 17,268 | Rs 16,720 | Rs 548 | Rs 0 | Rs 0 |
یہ کیلکولیٹر صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے۔ یہ مالی مشورہ نہیں ہے۔
رہن کیلکولیٹر۔ ماہانہ قسط، کل سود، اور ادائیگی کا شیڈول۔
ہاؤس لون (رہن / مارگیج) کیا ہے؟
ہاؤس لون کی ماہانہ قسط (EMI) کا حساب کیسے لگائیں؟
ہاؤس لون EMI کا فارمولا
- = ماہانہ قسط (اصل رقم + سود / مارک اپ)
- = قرض کی اصل رقم (جائیداد کی قیمت - ڈاؤن پیمنٹ)
- = ماہانہ شرح سود (سالانہ شرح ÷ 12)
- = کل ماہانہ قسطوں کی تعداد (قرض کی مدت سالوں میں × 12)
ہاؤس لون EMI کی عملی مثالیں
5 مرلے کا مکان: ₨80 لاکھ، 20% ڈاؤن پیمنٹ
10 مرلے کا مکان: 15 سال بمقابلہ 20 سال کی مدت کا موازنہ
اضافی ادائیگی کا اثر: ہر ماہ ₨10,000 اضافی دیں
ہاؤس لون پر پیسے بچانے کے مشورے
- کم از کم 20% ڈاؤن پیمنٹ دیں۔ پاکستان میں SBP کے قوانین کے مطابق زیادہ تر بینک 80% LTV (Loan-to-Value) تک قرض دیتے ہیں یعنی 20% ڈاؤن پیمنٹ ضروری ہے۔ ₨1 کروڑ کے مکان پر 20% کی بجائے 30% ڈاؤن پیمنٹ دینے سے قرض ₨10 لاکھ کم ہوتا ہے اور 20 سال میں ₨18-20 لاکھ سود کی بچت ہوتی ہے۔
- متعدد بینکوں سے شرح سود کا موازنہ ضرور کریں۔ HBL، MCB، بینک الحبیب، UBL اور HBFC جیسے اداروں کی شرحوں میں 1-2% کا فرق ہو سکتا ہے۔ ₨60 لاکھ کے 20 سال کے قرض پر صرف 1% کم شرح سے تقریباً ₨10 لاکھ سے زائد سود بچ سکتا ہے۔
- "میرا گھر میرا آشیانہ" اسکیم سے فائدہ اٹھائیں۔ اگر آپ پہلی بار گھر خرید رہے ہیں اور ماہانہ آمدنی ₨2,00,000 تک ہے (ٹائر-1) تو 3% شرح پر فنانسنگ مل سکتی ہے۔ ₨5,00,000 تک آمدنی والوں کو ٹائر-2 میں 8% شرح ملتی ہے۔ یہ مارکیٹ ریٹ (13-14%) کے مقابلے میں نمایاں بچت ہے۔
- جب بھی ممکن ہو اضافی ادائیگی (پری پیمنٹ) کریں۔ بونس، اضافی آمدنی یا بیرون ملک سے ترسیلاتِ زر سیدھی اصل رقم میں لگائیں۔ حکومتی اسکیم کے تحت قرض پر کوئی پری پیمنٹ جرمانہ نہیں ہے۔ پہلے 5-7 سالوں میں پری پیمنٹ سب سے زیادہ فائدہ مند ہے۔
- اسلامی بینکنگ کے اختیارات پر غور کریں۔ میزان بینک کی "ایزی ہوم"، بینک اسلامی کی "مسکن" اور ایم سی بی اسلامک کی "رہائش" فنانسنگ گھٹتی ہوئی مشارکہ (Diminishing Musharakah) کی بنیاد پر ہے جو شرعی طور پر سود سے پاک ہے۔ شرح منافع روایتی بینکوں سے ملتی جلتی ہوتی ہے لیکن ساخت حلال ہے۔
- سٹیمپ ڈیوٹی اور رجسٹریشن کے اخراجات پہلے سے جان لیں۔ پنجاب اور سندھ میں سٹیمپ ڈیوٹی 5%، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں 4% ہے۔ رجسٹریشن فیس 1% اور میوٹیشن 0.5% ہے۔ ₨1 کروڑ کے مکان پر یہ اخراجات تقریباً ₨6.5-7 لاکھ بنتے ہیں جو ڈاؤن پیمنٹ کے علاوہ ہیں۔
- پراپرٹی ٹیکس کے اندازے کو سالانہ جانچیں۔ ہر صوبے میں پراپرٹی ٹیکس کا نظام مختلف ہے۔ DC ریٹ (ڈپٹی کمشنر ریٹ) عام طور پر مارکیٹ ویلیو سے 30-50% کم ہوتا ہے۔ غلط اندازے پر اعتراض کر کے سالانہ ہزاروں روپے بچائے جا سکتے ہیں۔
ہاؤس لون کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
₨1 لاکھ ماہانہ تنخواہ پر کتنا ہاؤس لون مل سکتا ہے؟
"میرا گھر میرا آشیانہ" اسکیم کیا ہے اور کون اہل ہے؟
روایتی ہاؤس لون اور اسلامی ہوم فنانسنگ میں کیا فرق ہے؟
ایمورٹائزیشن شیڈول کیا ہے اور کیوں اہم ہے؟
پاکستان میں ہاؤس لون کے لیے کون سے دستاویزات درکار ہیں؟
KIBOR کیا ہے اور ہاؤس لون پر اس کا کیا اثر ہے؟
ہاؤس لون پر پری پیمنٹ (جلد ادائیگی) سے کتنی بچت ہو سکتی ہے؟
پاکستان میں مکان خریدنے پر کون سے ٹیکس اور فیسیں لگتی ہیں؟
ہاؤس لون کی اہم اصطلاحات
ایمورٹائزیشن
مقررہ ماہانہ قسطوں کے ذریعے قرض کی بتدریج ادائیگی کا عمل۔ ابتدائی قسطوں میں سود کا حصہ زیادہ اور اصل رقم کم ہوتی ہے، بعد میں یہ تناسب الٹ ہو جاتا ہے۔
KIBOR (کراچی انٹر بینک آفرڈ ریٹ)
وہ بنیادی شرح جس پر پاکستان کے بینک آپس میں قرض لین دین کرتے ہیں۔ فلوٹنگ ریٹ ہاؤس لون کی شرح KIBOR + سپریڈ سے طے ہوتی ہے۔ مارچ 2026 میں 1 سالہ KIBOR تقریباً 10.5-11% ہے۔
گھٹتی ہوئی مشارکہ (Diminishing Musharakah)
اسلامی ہوم فنانسنگ کا شرعی طریقہ جس میں بینک اور گاہک مل کر جائیداد خریدتے ہیں۔ گاہک بینک کے حصے کا کرایہ ادا کرتا ہے اور ساتھ ساتھ بینک کے یونٹس خریدتا جاتا ہے جب تک مکمل ملکیت حاصل نہ ہو جائے۔
LTV (Loan-to-Value) تناسب
قرض کی رقم اور جائیداد کی قیمت کا تناسب۔ پاکستان میں SBP کے مطابق زیادہ تر بینک 80% تک LTV پر قرض دیتے ہیں، یعنی کم از کم 20% ڈاؤن پیمنٹ ضروری ہے۔
سٹیمپ ڈیوٹی
جائیداد کی خرید و فروخت کے دستاویزات پر حکومت کو ادا کیا جانے والا ٹیکس۔ پاکستان میں یہ صوبے کے لحاظ سے 4% سے 5% تک ہوتا ہے اور ڈی سی ریٹ (ڈپٹی کمشنر ریٹ) کی بنیاد پر حساب لگایا جاتا ہے۔
ڈی سی ریٹ (DC Rate)
ڈپٹی کمشنر کی طرف سے مقرر کردہ سرکاری جائیداد کی قیمت جو سٹیمپ ڈیوٹی، ٹیکس اور رجسٹریشن فیس کے حساب کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ عام طور پر مارکیٹ ویلیو سے 30-50% کم ہوتی ہے۔
ڈاؤن پیمنٹ
مکان خریدتے وقت اپنی جیب سے دی جانے والی پہلی رقم جو قرض کی رقم میں شامل نہیں ہوتی۔ زیادہ ڈاؤن پیمنٹ سے قرض کم ہوتا ہے، ماہانہ قسط کم ہوتی ہے اور کل سود بھی کم لگتا ہے۔