Smart Calculators

Smart

Calculators

رہن کیلکولیٹر

اپنی ماہانہ رہن کی قسط، کل سود، اور مکمل ادائیگی کا شیڈول معلوم کریں۔ پراپرٹی ٹیکس، انشورنس، PMI اور اضافی ادائیگی کا تجزیہ شامل ہے۔

رہن کیلکولیٹر۔ ماہانہ قسط، کل سود، اور ادائیگی کا شیڈول۔
رہن کیلکولیٹر قرض کی رقم، سود کی شرح اور مدت کی بنیاد پر اصل رقم، سود، ٹیکس، انشورنس اور PMI ملا کر ماہانہ قسط کا حساب لگاتا ہے۔ یہ ایک مکمل ادائیگی کا شیڈول بناتا ہے جو دکھاتا ہے کہ ہر قسط سود اور اصل رقم میں کیسے تقسیم ہوتی ہے۔

ہاؤس لون (رہن / مارگیج) کیا ہے؟

ہاؤس لون ایک طویل المدتی قرض ہے جو مکان یا فلیٹ خریدنے کے لیے بینک یا مالیاتی ادارے سے حاصل کیا جاتا ہے، جہاں خریدی جانے والی جائیداد ہی ضمانت (کولیٹرل) کے طور پر رہن رکھی جاتی ہے۔ پاکستان میں مارچ 2026 تک سٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی پالیسی ریٹ 10.5% ہے اور عام بینک ہاؤس فنانسنگ KIBOR + 1.5% سے 3.5% کے سپریڈ پر دیتے ہیں، یعنی تقریباً 12% سے 14% سالانہ شرح سود۔
پاکستان میں ہاؤس لون کی ماہانہ قسط (EMI) کا حساب فرنچ ایمورٹائزیشن طریقے سے لگایا جاتا ہے جس میں پوری قرض کی مدت کے دوران ایک مقررہ ماہانہ رقم ادا کی جاتی ہے۔ ہر قسط کے دو حصے ہوتے ہیں — اصل رقم (پرنسپل) اور سود (مارک اپ)۔ ابتدائی سالوں میں قسط کا بڑا حصہ سود میں جاتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ اصل رقم کا حصہ بڑھتا جاتا ہے۔
روایتی بینکنگ کے علاوہ پاکستان میں اسلامی بینکنگ بھی مقبول ہے جہاں مکان کی خریداری "گھٹتی ہوئی مشارکہ" (Diminishing Musharakah) کے شرعی طریقے سے ہوتی ہے۔ میزان بینک، بینک اسلامی اور ایم سی بی اسلامک جیسے ادارے سود کی بجائے نفع کی بنیاد پر فنانسنگ فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومتِ پاکستان کی "میرا گھر میرا آشیانہ" اسکیم پہلی بار گھر خریدنے والوں کو سبسڈی کے ساتھ 3% سے 5% کی کم شرح پر فنانسنگ فراہم کرتی ہے۔

ہاؤس لون کی ماہانہ قسط (EMI) کا حساب کیسے لگائیں؟

ہاؤس لون کی ماہانہ قسط کا حساب لگانے کے لیے آپ کو تین بنیادی معلومات چاہئیں: قرض کی رقم (جائیداد کی قیمت میں سے ڈاؤن پیمنٹ نکال کر)، سالانہ شرح سود، اور قرض کی مدت (سالوں میں)۔ مرحلہ وار طریقہ یہ ہے:
1. قرض کی رقم معلوم کریں۔ جائیداد کی کل قیمت میں سے ڈاؤن پیمنٹ نکالیں۔ مثلاً ₨1,00,00,000 (ایک کروڑ) کا مکان اور 20% ڈاؤن پیمنٹ (₨20,00,000) کا مطلب ₨80,00,000 کی قرض کی رقم۔
2. سالانہ شرح سود کو ماہانہ شرح میں تبدیل کریں۔ سالانہ شرح کو 12 سے تقسیم کریں۔ 13% سالانہ شرح پر ماہانہ شرح = 0.13 ÷ 12 = 0.01083۔
3. کل قسطوں کی تعداد معلوم کریں۔ قرض کی مدت (سال) کو 12 سے ضرب دیں۔ 20 سال کے قرض میں 240 قسطیں ہوتی ہیں۔
4. EMI فارمولا لگائیں۔ ان اعداد کو معیاری ایمورٹائزیشن فارمولے (اگلے حصے میں دیا گیا ہے) میں ڈال کر ماہانہ قسط نکالیں۔
5. اضافی اخراجات شامل کریں۔ سالانہ پراپرٹی ٹیکس اور انشورنس کو 12 سے تقسیم کر کے بنیادی قسط میں جوڑیں۔
مذکورہ مثال میں (₨80,00,000 کا قرض، 13% شرح سود، 20 سال) ماہانہ قسط تقریباً ₨93,652 آتی ہے۔ 20 سال میں کل ادائیگی ₨2,24,76,480 ہوگی — یعنی ₨1,44,76,480 صرف سود کی مد میں، جو اصل قرض سے تقریباً 1.8 گنا زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شرح سود میں معمولی کمی بھی لاکھوں روپے بچا سکتی ہے۔

ہاؤس لون EMI کا فارمولا

EMI=P×r(1+r)n(1+r)n1EMI = P \times \frac{r(1 + r)^n}{(1 + r)^n - 1}
  • EMIEMI = ماہانہ قسط (اصل رقم + سود / مارک اپ)
  • PP = قرض کی اصل رقم (جائیداد کی قیمت - ڈاؤن پیمنٹ)
  • rr = ماہانہ شرح سود (سالانہ شرح ÷ 12)
  • nn = کل ماہانہ قسطوں کی تعداد (قرض کی مدت سالوں میں × 12)
یہ فرنچ ایمورٹائزیشن فارمولا ہے جو پاکستان کے تقریباً تمام بینک اور ہاؤسنگ فنانس ادارے استعمال کرتے ہیں۔ یہ پوری قرض کی مدت کے دوران ایک مقررہ ماہانہ قسط دیتا ہے۔
مثال: ₨60,00,000 کا قرض، 13% سالانہ شرح سود، 15 سال کے لیے۔ ماہانہ شرح = 0.13 ÷ 12 = 0.01083، کل قسطیں = 180۔
EMI=60,00,000×0.01083×(1.01083)180(1.01083)1801=60,00,000×0.01083×6.84246.8424176,080EMI = 60{,}00{,}000 \times \frac{0.01083 \times (1.01083)^{180}}{(1.01083)^{180} - 1} = 60{,}00{,}000 \times \frac{0.01083 \times 6.8424}{6.8424 - 1} \approx 76{,}080
15 سال میں کل ادائیگی ₨1,36,94,400 ہوگی — یعنی ₨76,94,400 صرف سود ہے جو اصل قرض (₨60 لاکھ) سے بھی زیادہ ہے۔ اسی لیے ڈاؤن پیمنٹ زیادہ دینا اور اضافی ادائیگیاں (پری پیمنٹ) کرنا بہت فائدہ مند ہے۔
کل ماہانہ ہاؤسنگ خرچے کے لیے اضافی لاگتیں شامل کریں:
Total=EMI+Annual Property Tax12+Annual Insurance12\text{Total} = EMI + \frac{\text{Annual Property Tax}}{12} + \frac{\text{Annual Insurance}}{12}
پاکستان میں زیادہ تر بینک پروسیسنگ فیس لیتے ہیں جو عام طور پر قرض کی رقم کی 0.5% سے 1% ہوتی ہے۔ یہ قرض کی رقم میں شامل نہیں ہوتی بلکہ علیحدہ ادا کرنی ہوتی ہے۔

ہاؤس لون EMI کی عملی مثالیں

5 مرلے کا مکان: ₨80 لاکھ، 20% ڈاؤن پیمنٹ

ایک نوجوان پیشہ ور لاہور میں 5 مرلے کا مکان ₨80,00,000 میں خریدتا ہے اور 20% ڈاؤن پیمنٹ (₨16,00,000) دیتا ہے۔ قرض کی رقم ₨64,00,000 ہوتی ہے۔ بینک الحبیب سے 13% سالانہ شرح سود پر 20 سال کے لیے قرض لینے پر ماہانہ قسط تقریباً ₨74,922 آتی ہے۔ 20 سال میں کل ادائیگی ₨1,79,81,280 ہوگی — جس میں ₨1,15,81,280 صرف سود ہے، اصل قرض سے تقریباً 1.8 گنا زیادہ۔ اگر یہ خریدار "میرا گھر میرا آشیانہ" اسکیم میں اہل ہو (ماہانہ آمدنی ₨2,00,000 تک، ٹائر-1) تو پہلے 5 سال صرف 3% اور اگلے 5 سال 5% شرح لگتی ہے۔ اس صورت میں پہلے 5 سال کی ماہانہ قسط صرف تقریباً ₨35,500 ہوگی — نارمل قسط سے تقریباً نصف۔

10 مرلے کا مکان: 15 سال بمقابلہ 20 سال کی مدت کا موازنہ

اسلام آباد میں 10 مرلے کا مکان ₨1,50,00,000 میں خریدا جا رہا ہے۔ 25% ڈاؤن پیمنٹ (₨37,50,000) کے بعد قرض ₨1,12,50,000 ہے۔ 13.5% شرح سود پر 20 سال کی مدت میں ماہانہ قسط تقریباً ₨1,34,816 اور کل سود ₨2,11,05,840 ہے۔ 15 سال کی مدت میں ماہانہ قسط بڑھ کر ₨1,48,387 ہو جاتی ہے — یعنی ₨13,571 زیادہ — لیکن کل سود گھٹ کر ₨1,54,59,660 رہ جاتا ہے۔ 15 سال چننے سے ₨56,46,180 (تقریباً 56.5 لاکھ) کی سود کی بچت ہوتی ہے۔ اگر آپ کی ماہانہ آمدنی ₨3,00,000+ ہے اور کوئی اور بڑا قرض نہیں تو مختصر مدت کا انتخاب بہتر ہے۔

اضافی ادائیگی کا اثر: ہر ماہ ₨10,000 اضافی دیں

₨50,00,000 کا قرض، 13% شرح سود، 20 سال کی مدت۔ بنیادی ماہانہ قسط تقریباً ₨58,532 ہے۔ اگر ہر ماہ ₨10,000 اضافی اصل رقم میں ادا کریں تو قرض تقریباً 16 سال میں ختم ہو جاتا ہے — یعنی 4 سال پہلے۔ کل سود ₨90,47,680 سے گھٹ کر تقریباً ₨72,00,000 رہ جاتا ہے — یعنی تقریباً ₨18,47,680 (اٹھارہ لاکھ سے زائد) کی بچت۔ "میرا گھر میرا آشیانہ" اسکیم کے تحت قرض پر کوئی پری پیمنٹ پینلٹی نہیں ہے۔ یاد رکھیں، قرض کے ابتدائی 5-7 سالوں میں اضافی ادائیگی سب سے زیادہ فائدہ مند ہوتی ہے کیونکہ اس عرصے میں قسط کا 70-80% سود میں جاتا ہے۔

ہاؤس لون پر پیسے بچانے کے مشورے

  • کم از کم 20% ڈاؤن پیمنٹ دیں۔ پاکستان میں SBP کے قوانین کے مطابق زیادہ تر بینک 80% LTV (Loan-to-Value) تک قرض دیتے ہیں یعنی 20% ڈاؤن پیمنٹ ضروری ہے۔ ₨1 کروڑ کے مکان پر 20% کی بجائے 30% ڈاؤن پیمنٹ دینے سے قرض ₨10 لاکھ کم ہوتا ہے اور 20 سال میں ₨18-20 لاکھ سود کی بچت ہوتی ہے۔
  • متعدد بینکوں سے شرح سود کا موازنہ ضرور کریں۔ HBL، MCB، بینک الحبیب، UBL اور HBFC جیسے اداروں کی شرحوں میں 1-2% کا فرق ہو سکتا ہے۔ ₨60 لاکھ کے 20 سال کے قرض پر صرف 1% کم شرح سے تقریباً ₨10 لاکھ سے زائد سود بچ سکتا ہے۔
  • "میرا گھر میرا آشیانہ" اسکیم سے فائدہ اٹھائیں۔ اگر آپ پہلی بار گھر خرید رہے ہیں اور ماہانہ آمدنی ₨2,00,000 تک ہے (ٹائر-1) تو 3% شرح پر فنانسنگ مل سکتی ہے۔ ₨5,00,000 تک آمدنی والوں کو ٹائر-2 میں 8% شرح ملتی ہے۔ یہ مارکیٹ ریٹ (13-14%) کے مقابلے میں نمایاں بچت ہے۔
  • جب بھی ممکن ہو اضافی ادائیگی (پری پیمنٹ) کریں۔ بونس، اضافی آمدنی یا بیرون ملک سے ترسیلاتِ زر سیدھی اصل رقم میں لگائیں۔ حکومتی اسکیم کے تحت قرض پر کوئی پری پیمنٹ جرمانہ نہیں ہے۔ پہلے 5-7 سالوں میں پری پیمنٹ سب سے زیادہ فائدہ مند ہے۔
  • اسلامی بینکنگ کے اختیارات پر غور کریں۔ میزان بینک کی "ایزی ہوم"، بینک اسلامی کی "مسکن" اور ایم سی بی اسلامک کی "رہائش" فنانسنگ گھٹتی ہوئی مشارکہ (Diminishing Musharakah) کی بنیاد پر ہے جو شرعی طور پر سود سے پاک ہے۔ شرح منافع روایتی بینکوں سے ملتی جلتی ہوتی ہے لیکن ساخت حلال ہے۔
  • سٹیمپ ڈیوٹی اور رجسٹریشن کے اخراجات پہلے سے جان لیں۔ پنجاب اور سندھ میں سٹیمپ ڈیوٹی 5%، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں 4% ہے۔ رجسٹریشن فیس 1% اور میوٹیشن 0.5% ہے۔ ₨1 کروڑ کے مکان پر یہ اخراجات تقریباً ₨6.5-7 لاکھ بنتے ہیں جو ڈاؤن پیمنٹ کے علاوہ ہیں۔
  • پراپرٹی ٹیکس کے اندازے کو سالانہ جانچیں۔ ہر صوبے میں پراپرٹی ٹیکس کا نظام مختلف ہے۔ DC ریٹ (ڈپٹی کمشنر ریٹ) عام طور پر مارکیٹ ویلیو سے 30-50% کم ہوتا ہے۔ غلط اندازے پر اعتراض کر کے سالانہ ہزاروں روپے بچائے جا سکتے ہیں۔

ہاؤس لون کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

₨1 لاکھ ماہانہ تنخواہ پر کتنا ہاؤس لون مل سکتا ہے؟

پاکستان کے بینک عام طور پر ماہانہ آمدنی کا 40-50% تک قسط قبول کرتے ہیں (DTI — Debt-to-Income Ratio)۔ ₨1,00,000 ماہانہ تنخواہ پر زیادہ سے زیادہ قسط تقریباً ₨40,000 سے ₨50,000 ہو سکتی ہے۔ 13% شرح سود اور 20 سال کی مدت پر یہ تقریباً ₨34 لاکھ سے ₨43 لاکھ تک کے قرض میں بدلتا ہے۔ 20% ڈاؤن پیمنٹ شامل کریں تو آپ تقریباً ₨42 لاکھ سے ₨53 لاکھ تک کا مکان خرید سکتے ہیں۔ تاہم، موجودہ قرضے (کار لون، کریڈٹ کارڈ) آپ کی اہلیت کم کر دیتے ہیں۔

"میرا گھر میرا آشیانہ" اسکیم کیا ہے اور کون اہل ہے؟

"میرا گھر میرا آشیانہ" (سابقہ نام میرا پاکستان میرا گھر) حکومتِ پاکستان اور سٹیٹ بینک کی مشترکہ ہاؤسنگ اسکیم ہے جو پہلی بار گھر خریدنے والوں کو سبسڈی والی شرح پر فنانسنگ دیتی ہے۔ ٹائر-1 (ماہانہ آمدنی ₨2,00,000 تک) میں پہلے 5 سال 3% اور اگلے 5 سال 5% شرح لگتی ہے۔ ٹائر-2 (₨5,00,000 تک آمدنی) میں 8% شرح ہے۔ اہلیت: پاکستانی شہری، درست شناختی کارڈ، اپنے نام کوئی مکان نہ ہو، اور مستحکم آمدنی۔ تنخواہ دار اور خود مختار دونوں اہل ہیں۔ کوئی پروسیسنگ فیس نہیں اور کوئی پری پیمنٹ پینلٹی نہیں۔

روایتی ہاؤس لون اور اسلامی ہوم فنانسنگ میں کیا فرق ہے؟

روایتی ہاؤس لون میں بینک آپ کو رقم قرض دیتا ہے اور آپ سود (مارک اپ) کے ساتھ واپس کرتے ہیں — اسلامی فقہ میں اسے ربا (سود) کہا جاتا ہے جو حرام ہے۔ اسلامی ہوم فنانسنگ میں بینک آپ کے ساتھ مل کر جائیداد خریدتا ہے ("گھٹتی ہوئی مشارکہ" یعنی Diminishing Musharakah)۔ آپ بینک کے حصے کا کرایہ دیتے ہیں اور ساتھ ساتھ بینک کے یونٹس خریدتے جاتے ہیں جب تک مکمل ملکیت آپ کے نام نہ ہو جائے۔ شرح منافع KIBOR سے مربوط ہوتی ہے اور عملی طور پر ماہانہ ادائیگی روایتی قرض جیسی ہی ہوتی ہے۔ میزان بینک، بینک اسلامی اور ایچ بی ایل اسلامک یہ سہولت فراہم کرتے ہیں۔

ایمورٹائزیشن شیڈول کیا ہے اور کیوں اہم ہے؟

ایمورٹائزیشن شیڈول قرض کی پوری مدت میں ہر ماہ کی ادائیگی کا تفصیلی حساب ہے جو بتاتا ہے کہ ہر قسط میں کتنا اصل رقم اور کتنا سود شامل ہے۔ مثال کے طور پر ₨60 لاکھ کے قرض پر 13% شرح سود اور 20 سال کی مدت میں، پہلے مہینے کی ₨70,282 کی قسط میں ₨65,000 سود اور صرف ₨5,282 اصل رقم ہوتی ہے۔ 10 سال (120ویں قسط) کے بعد تقسیم تقریباً ₨43,000 سود اور ₨27,282 اصل رقم ہو جاتی ہے۔ یہ شیڈول سمجھنے سے آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ پری پیمنٹ کا بہترین وقت کب ہے۔

پاکستان میں ہاؤس لون کے لیے کون سے دستاویزات درکار ہیں؟

عام طور پر درکار دستاویزات: درست شناختی کارڈ (CNIC) کی کاپی، آمدنی کا ثبوت (تنخواہ دار ملازمین کے لیے تنخواہ سلپ اور 6 ماہ کی بینک اسٹیٹمنٹ، خود مختار کاروباری افراد کے لیے ٹیکس ریٹرن اور بینک اسٹیٹمنٹ)، جائیداد کے دستاویزات (اصل فائل، الاٹمنٹ لیٹر یا رجسٹری)، ملازمت کا خط (ایمپلائمنٹ لیٹر)، 2 پاسپورٹ سائز تصاویر۔ بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے NICOP اور بیرونی آمدنی کا ثبوت بھی چاہیے۔ HBFC اور بعض بینک مزید ڈاکومنٹس مانگ سکتے ہیں۔

KIBOR کیا ہے اور ہاؤس لون پر اس کا کیا اثر ہے؟

KIBOR (Karachi Interbank Offered Rate) وہ شرح ہے جس پر پاکستان کے بینک آپس میں قرض لین دین کرتے ہیں۔ مارچ 2026 میں 1 سالہ KIBOR تقریباً 10.5-11% ہے۔ زیادہ تر بینک ہاؤس لون کی شرح KIBOR + سپریڈ (1.5% سے 3.5%) پر مقرر کرتے ہیں۔ اگر KIBOR بڑھے تو آپ کی فلوٹنگ ریٹ قسط بھی بڑھے گی اور کم ہونے پر گھٹے گی۔ SBP کی پالیسی ریٹ 10.5% ہونے سے موجودہ فلوٹنگ ریٹ ہاؤس لون تقریباً 12% سے 14.5% کے درمیان آتے ہیں۔ حکومتی اسکیم میں فنانسنگ ریٹ مقررہ (فکسڈ) ہے اور KIBOR سے متاثر نہیں ہوتی۔

ہاؤس لون پر پری پیمنٹ (جلد ادائیگی) سے کتنی بچت ہو سکتی ہے؟

پری پیمنٹ سے نمایاں بچت ہوتی ہے خاص طور پر قرض کے ابتدائی سالوں میں۔ ₨50 لاکھ کے قرض پر 13% شرح اور 20 سال مدت میں سالانہ ₨1 لاکھ کی اضافی ادائیگی سے قرض تقریباً 3-4 سال پہلے ختم ہو سکتا ہے اور ₨12-15 لاکھ سود بچ سکتا ہے۔ "میرا گھر میرا آشیانہ" اسکیم میں کوئی پری پیمنٹ جرمانہ نہیں ہے۔ تجارتی بینکوں میں فلوٹنگ ریٹ پر عام طور پر کم یا صفر پری پیمنٹ پینلٹی ہے، البتہ فکسڈ ریٹ پر بعض بینک 1-2% تک جرمانہ لے سکتے ہیں — قرض لینے سے پہلے یہ شرط ضرور دیکھیں۔

پاکستان میں مکان خریدنے پر کون سے ٹیکس اور فیسیں لگتی ہیں؟

مکان خریدنے پر ڈاؤن پیمنٹ اور قرض کے علاوہ کئی اضافی اخراجات ہیں: سٹیمپ ڈیوٹی (پنجاب/سندھ/اسلام آباد میں 5%، خیبر پختونخوا/بلوچستان میں 4% — ڈی سی ریٹ پر)، رجسٹریشن فیس (1%)، میوٹیشن فیس (0.5%)، ایڈوانس ٹیکس دفعہ 236K (ایکٹو ٹیکس پیئرز کے لیے 2%، غیر فائلرز کے لیے 7% — ڈی سی ریٹ یا ایف بی آر ویلیو پر)۔ ₨1 کروڑ (DC ریٹ) کے مکان پر ایکٹو ٹیکس پیئر خریدار کے اخراجات تقریباً ₨8.5 لاکھ بنتے ہیں۔ یہ رقم ڈاؤن پیمنٹ کے علاوہ ہے لہذا بجٹ میں شامل رکھیں۔


ہاؤس لون کی اہم اصطلاحات

ایمورٹائزیشن

مقررہ ماہانہ قسطوں کے ذریعے قرض کی بتدریج ادائیگی کا عمل۔ ابتدائی قسطوں میں سود کا حصہ زیادہ اور اصل رقم کم ہوتی ہے، بعد میں یہ تناسب الٹ ہو جاتا ہے۔

KIBOR (کراچی انٹر بینک آفرڈ ریٹ)

وہ بنیادی شرح جس پر پاکستان کے بینک آپس میں قرض لین دین کرتے ہیں۔ فلوٹنگ ریٹ ہاؤس لون کی شرح KIBOR + سپریڈ سے طے ہوتی ہے۔ مارچ 2026 میں 1 سالہ KIBOR تقریباً 10.5-11% ہے۔

گھٹتی ہوئی مشارکہ (Diminishing Musharakah)

اسلامی ہوم فنانسنگ کا شرعی طریقہ جس میں بینک اور گاہک مل کر جائیداد خریدتے ہیں۔ گاہک بینک کے حصے کا کرایہ ادا کرتا ہے اور ساتھ ساتھ بینک کے یونٹس خریدتا جاتا ہے جب تک مکمل ملکیت حاصل نہ ہو جائے۔

LTV (Loan-to-Value) تناسب

قرض کی رقم اور جائیداد کی قیمت کا تناسب۔ پاکستان میں SBP کے مطابق زیادہ تر بینک 80% تک LTV پر قرض دیتے ہیں، یعنی کم از کم 20% ڈاؤن پیمنٹ ضروری ہے۔

سٹیمپ ڈیوٹی

جائیداد کی خرید و فروخت کے دستاویزات پر حکومت کو ادا کیا جانے والا ٹیکس۔ پاکستان میں یہ صوبے کے لحاظ سے 4% سے 5% تک ہوتا ہے اور ڈی سی ریٹ (ڈپٹی کمشنر ریٹ) کی بنیاد پر حساب لگایا جاتا ہے۔

ڈی سی ریٹ (DC Rate)

ڈپٹی کمشنر کی طرف سے مقرر کردہ سرکاری جائیداد کی قیمت جو سٹیمپ ڈیوٹی، ٹیکس اور رجسٹریشن فیس کے حساب کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ عام طور پر مارکیٹ ویلیو سے 30-50% کم ہوتی ہے۔

ڈاؤن پیمنٹ

مکان خریدتے وقت اپنی جیب سے دی جانے والی پہلی رقم جو قرض کی رقم میں شامل نہیں ہوتی۔ زیادہ ڈاؤن پیمنٹ سے قرض کم ہوتا ہے، ماہانہ قسط کم ہوتی ہے اور کل سود بھی کم لگتا ہے۔